صوبہ خیبر پختونخوا کے دو ڈویژنز ہزارہ و مالاکنڈ، گلگت بلتستان اور شمالی کشمیر کے علاقے "شمالی پاکستان” کہلاتے ہیں اور یہ خطہ اپنی دلکش وادیوں اور بے مثال قدرتی حسن کی وجہ سے ملک بھر کے سیاحوں میں مقبول ہے۔ یہ علاقہ ہر طرح کی سیاحت کے لیے انتہائی موزوں ہے، چاہے وہ گلگت بلتستان کی بلند و بالا چوٹیاں ہوں، کالام اور کمراٹ کے گھنے جنگلات اور آبشار، دیوسائی کے میدانوں پر بچھی قدرتی قالین، شندور کا تاریخی پولو گراؤنڈ، عطاء آباد جھیل، خلتی جھیل یا نئی نویلی روشن تالی داس جھیل۔ بٹہ کنڈی کا مسحور کن جمال، نانگا پربت کا رعب اور داریل کی قدیم تاریخ، سب کچھ چیخ چیخ کر سیاحوں کو پکار رہے ہیں اور مقامی طور پر لاکھوں لوگ ان مقامات کو دیکھنے کے لیے سفر کرتے ہیں۔ لیکن یہ کافی نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر میں پاکستان کی قدرتی خوبصورتی کو دکھایا جائے جس کے لیے سیاحت سے محبت کرنے والا ہر شخص اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال رہا ہے۔ شمالی پاکستان کی وادیوں کی معلومات اور خوبصورتی کو کور کرنے کے لیے میں ایک سیریز کا آغاز کر رہا ہوں جس کا نام "شمالی پاکستان سیریز” رکھا گیا ہے۔ اس سیریز کو شروع کرنے سے پہلے میں آپ سے تعاون کا طلبگار ہوں۔ آپ اگر ویب سائٹ پر یہ مضمون دیکھ رہے ہیں تو آپ سے گزارش ہے کہ اس سیریز کو مکمل پڑھیں، علمی و معلوماتی غلطیوں کی نشاندہی کریں اور اس پیغام کو دیگر لوگوں تک پہنچانے میں میری مدد کریں۔ میرا تیار کردہ مواد بغیر اجازت کاپی کرنے سے گریز کریں اور اقتباسات نقل کرتے ہوئے حوالہ و کریڈٹ لازمی دیں۔

