شمالی پاکستان کی سیاحتی مقامات کا تذکرہ ہو تو وادی کمراٹ کا نام ایک ایسے "آل راؤنڈر” کے طور پر ابھرتا ہے جو فطرت کے تمام رنگوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر میں ہندوکش کے دامن میں چھپی یہ الپائن وادی سطح سمندر سے تقریباً 8,100 فٹ کی بلندی پر واقع ہے، جہاں بادل زمین سے مصافحہ کرتے نظر آتے ہیں۔
سکردو کے بعد کمراٹ ہی وہ مقام ہے جو بیک وقت دریا، بلند و بالا پہاڑوں، گھنے جنگلات، جھیلوں اور آبشاروں کا مسکن ہے۔ اس وادی کا دل دریائے پنجکوڑہ ہے، جو کوہِ ہندوراج کے گلیشیئرز سے نکل کر وادی کے قلب سے گزرتا ہوا آگے چل کر دریائے سوات میں شامل ہو جاتا ہے، اور پھر یہ دونوں دریا نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں جا گرتے ہیں۔ یہ دریا نہ صرف یہاں کی زراعت کا ضامن ہے بلکہ ٹراؤٹ مچھلی کا قدرتی مسکن بھی ہے، اگرچہ حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی انسانی آبادی اور زرعی فضلے کی وجہ سے اس کے پانی میں بھاری دھاتوں کی آمیزش کے شواہد ایک لمحہ فکریہ ہیں۔
تاریخی اعتبار سے یہ خطہ اتنا ہی قدیم ہے جتنی یہاں کی بلند و بالا چوٹیاں۔
1515ء کے قریب یوسفزئی پشتونوں نے اس خطے پر فتح حاصل کی، جس نے یہاں کے سماجی ڈھانچے کو ایک نئی سمت دی۔ قیامِ پاکستان کے وقت دیر ایک خود مختار شاہی ریاست تھی، جسے 1969ء میں باقاعدہ طور پر پاکستان میں ضم کیا گیا۔ یہاں کی لسانی شناخت بھی بے حد متنوع ہے، جہاں بڑی آبادی "گاؤری” یا دیر کوہستانی زبان بولتی ہے، جبکہ کلکوٹی، گوجری اور پشتو بولنے والے بھی موجود ہیں۔
مقامی ثقافت میں میزبانی کی جڑیں بہت گہری ہیں، غمی کے موقع پر سب لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور غمزدہ خاندان کی ہر طرح سے مدد کرتے ہیں وفات کے چند دن بعد قبر کو محفوظ بنانے کیلئے لکڑی سے مضبوط حصار بنایا جاتا جسے مقامی لوگ کھومب کہا جاتا ہے اور پھر غمزدہ خاندان وفات شدہ شخصیت کے ایصال ثواب کیلئے”خار” (خیرات) کا اہتمام کرتا ہے جہاں چھوٹے بڑے مرد عورتیں سب مدعو ہوتے ہیں اور آخر "بونئے” (کھانے کی گھروں میں تقسیم ) مقامی بچے گھر پہنچاتے ہیں
غم کی طرح خوشی کے مواقع پر بھی مقامی لوگ اکٹھے ہوکر کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں شادی سے ایک دں پہلے محلے کے نوجوانوں کو ایک پرتکلف ناشتے پر مدعو کیا جاتا ہے اور پھر ان کے سامنے لکڑیاں اکٹھی کرنے کا مطالبہ رکھا جاتا ہےاور نواجوان لکڑیاں اکٹھی کرنے میں مدد کرتے ہیں
جن نوجوانوں کے ذمے لکڑیاں اکٹھی کرنا نہیں ہوتا وہ گاؤں میں موجود مخصوص لوگوں سے دیگ اکٹھا کرتے ہیں ہر نوجوان اپنا شناختی کارڈ جمع کرواکر بغیر کسی معاوضے کے دیگ حاصل کرلیتا ہے اور شادی کے گھر پہنچاتا ہے بعد میں اسی دیگ کو واپس مالک تک پہنچانے کی زمہ داری بھی اسی نوجوان کی ہوتی ہے
بارات کا طریقہ بھی قدرے مختلف ہے
دولہے کے گھر والے دو یا تین مرد وخواتین دلہن کے گھر جاتی ہیں وہاں سے میمدار (دلہن) کو لاتے ہیں اس موقع پر دلہا ساتھ نہیں جاتا ، دلہن کے گھر اور دیگر رشتہ دار گاڑیوں میں دلہن کے ساتھ دولہے کے گھر جاتے ہیں جہاں ایک پروقار تقریب میں نکاح کا انعقاد ہوتاہے سب سے پہلے دلہن کے ساتھ آئے مہمانوں کو پرتکلف کھانا کھلایا جاتا ہے پھر دیگر شادی میں آنے والے مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے ۔ شادی بیاہ یا خیرات کے موقع پر خاص طور پر تیار کردہ گوشت والے چاول (پلاؤ) بنایا جاتا ہے ان چاولوں کی ریسیپی بنوں بیف پلاؤ سے مختلف مگر ذائقے میں اسی جیسی ہوتی ہے۔
آج کل خشک میوہ جات بھی اس چاؤل کی ریسپی جا خاص حصہ ہیں
کمراٹ کی جغرافیائی وسعتوں میں قدرت کے کئی شاہکار بکھرے ہوئے ہیں۔ یہاں 4000 میٹر سے بلند پہاڑوں کا ایک تسلسل ہے، جن میں تھالو زوم پیک 6000 میٹر کی بلندی کے ساتھ سب سے نمایاں ہے۔ وادی کا تقریباً 50 فیصد حصہ دیودار اور چیڑھ کے گھنے جنگلات پر مشتمل ہے، جو اسے پاکستان کی سب سے زیادہ جنگلات والی وادی کا اعزاز دلاتے ہیں۔ آبی ذخائر کی بات کی جائے تو کٹورہ جھیل، گورشئی، اور نبل کی سسٹر جھیلیں کسی زمرد کے جھومر کی مانند ہیں۔
تاہم، موسمیاتی تبدیلیوں کے تلخ اثرات سے یہ وادی بھی محفوظ نہیں رہی۔ شاہ زور میڈوز پر واقع وہ قدیم "شاہ زور جھیل”، جس کے بارے میں لوک داستانیں مشہور تھیں کہ یہاں جمعے کے روز پریاں اترتی ہیں، گزشتہ سال سیلابی ریلے کی نذر ہو کر اب ہم میں نہیں رہی۔ اسی طرح کالا چشمہ اپنی منفرد رنگت اور نارین کا چشمہ اپنی مٹھاس کی وجہ سے سیاحوں میں بے حد مقبول ہیں۔
سیاحتی مہم جوئی کے شوقین افراد کے لیے یہ وادی ایک سنگم کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے باڈی گوئی پاس کے ذریعے کالام اور تھالو پاس کے ذریعے چترال تک پیدل رسائی ممکن ہے۔
تھل کے مقام پر واقع 19ویں صدی کی قدیم "مسجد دارالسلام” تعمیراتی فن کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے، جو مکمل طور پر دیودار کی لکڑی سے تیار کی گئی ہے۔
وادی کی خاموشی میں بے شمار قدیم کہانیاں چھپی ہوئی ہیں، جن میں شہزادہ بہرام کی جانب سے گل اندام پری کو سفید دیو "تورابان” کی قید سے چھڑانے اور ہیرو کی مدد کرنے والے دیوقامت پرندے "امان پیشین” کا ذکر ملتا ہے۔
اگرچہ 2016 کے بعد یہاں سیاحت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، لیکن ناقص سڑکیں اور صحت کی سہولیات کا فقدان اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس "ملکہ حسن” کے قدرتی ماحول کو بچانے کے لیے کچرے کی درست منتقلی اور جنگلات کے کٹاؤ کو روکا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان جھیلوں اور اساطیری قصوں کے سحر کو محسوس کر سکیں۔
