اپر کوہستان سیاحتی مضمون


سطحِ سمندر سے چار ہزار میٹر سے زائد بلندی پر واقع سوپٹ ویلی، ضلع اپر کوہستان کا ایک ایسا خوابیدہ مقام ہے جو فطرت کی حیرت انگیز صناعی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جب گرمیوں کی تیز دھوپ میدانوں کو جھلسا رہی ہوتی ہے، تب جالکوٹ اور داسو کے مقامی لوگ اپنے مال مویشیوں کے ہمراہ اس دلکش وادی کا رخ کرتے ہیں، جہاں سبزہ، سکون اور خاموشی انسان کو ایک اور ہی دنیا میں لے جاتے ہیں۔

اپر کوہستان، جو خیبر پختونخوا کا آخری شمال مشرقی ضلع ہے، فطرت کی بے پناہ نعمتوں سے مالا مال ہے۔ لیکن یہ خوبصورتی ہر ایک کے لیے نہیں، بلکہ صرف ان کے لیے ہے جو تھکن، صبر، انتظار اور مشقت کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ کوہستان میں سیاحت کسی آسان تفریح کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایڈونچر ہے جس کی قیمت جسمانی مشقت اور وقت کی قربانی کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔

کوہستان کے مشہور مقامات میں سے رازکہ ویلی، کندیا ویلی اور سوپٹ ویلی اپنے قدرتی حسن اور ایڈونچر سے بھرپور سفر کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ رازکہ ویلی تک داسو سے چالیس کلومیٹر کا سفر ہے جو زیادہ تر کچی سڑک پر دو گھنٹے جیپ کے ذریعے طے کیا جاتا ہے۔ یہاں اخروٹ کے درخت، خوبصورت آبشاریں، اور مہمان نواز لوگ سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں۔

کندیا ویلی ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے زندگی میں کبھی سچ مچ کا ایڈونچر نہیں کیا۔ داسو سے شاہراہِ قراقرم پر ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد جاپان پل کراس کرتے ہی کندیا کا راستہ شروع ہوتا ہے جو اپنی خطرناک سڑکوں، دشوار گزار پہاڑی راستوں، اور سانس روک دینے والے نظاروں کی بدولت یادگار بن جاتا ہے۔ گبرال تک پانچ گھنٹے کا سفر، پھر دو گھنٹے مزید، اور آخر میں ایک گھنٹہ پیدل چل کر میدان ویلی پہنچا جاتا ہے جہاں فلک سر پہاڑ کا نظارہ اور سبز میدانوں کا منظر دل کو چھو لیتا ہے۔ لیکن واپسی کے سفر کا خوف دل میں ضرور رہتا ہے۔

سوپٹ ویلی قدرتی حسن کے اعتبار سے ان تمام مقامات سے شاید آگے ہے۔ جالکوٹ سے آگے کا سفر جیپ پر طے کرنا پڑتا ہے، جہاں سڑک بارش کے بعد مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔ لیکن جب آپ سوپٹ ویلی پہنچتے ہیں تو لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو، ہوا سانس لینے لگی ہو، اور زمین نے سبز قالین بچھا رکھے ہوں۔ یہ جگہ گرمیوں میں مال مویشیوں کے ساتھ رہنے کے لیے بہترین ہے، مگر سردیوں میں یہاں بارہ فٹ سے زیادہ برف پڑتی ہے، اور انسانی رہائش ممکن نہیں رہتی۔
واضح رہے ضلع اپر کوہستان کی ثقافت پر الگ مضمون آگے کے مضامین میں آئے گا
اپر کوہستان کے ان علاقوں میں ہوٹلز نہ ہونے کے برابر ہیں، اس لیے کھانے پینے کا سامان ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ مقامی لوگ مہمان نواز ہیں اور ممکنہ حد تک مدد کرتے ہیں، لیکن یہ یاد رکھیں کہ یہاں کی زندگی شہری علاقوں سے بالکل مختلف ہے۔یہاں جو لوگ خود کھائیں گے وہی آپ کو کھلائیں گے ممکن ہے وہ کھانا آپ کھانے کے عادی نہ ہوں ۔ ان وادیوں کا سفر صرف ان کے لیے ہے جو قدرت سے سچی محبت رکھتے ہیں، اور اس کے راستوں کی مشکلات کو جھیلنے کا  حوصلہ بھی۔
شمالی پاکستان سیریز قسط نمبر 6


Discover more from خوابوں کی دنیا

Subscribe to get the latest posts sent to your email.


Leave a Reply

Discover more from خوابوں کی دنیا

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading