نگر کی یخ بستہ رات جب آہستہ آہستہ پسپا ہوتی ہے اور صبح کا نقرئی نور قراقرم کے برف پوش شانوں پر اترتا ہے، تو سامنے ایک خاموش مگر باوقار وجود سر اٹھائے کھڑا ہوتا ہے۔
یہ راکاپوشی ہے، جیسے کسی دیومالائی داستان کا شہزادہ جو صدیوں سے اسی جگہ ٹھہر کر روشنی کا انتظار کرتا ہو۔
دنیا اسے “پہاڑوں کا شہزادہ” کہتی ہے، مگر مقامی بروشسکی زبان میں راکاپوشی کو “چمکتی دیوار” کہا جاتا ہے۔ وجہ صاف ہے۔ سورج کی پہلی کرن پڑتے ہی اس کی برف ایسی دمکنے لگتی ہے جیسے سنگِ مرمر پر چاندنی انڈیل دی گئی ہو۔ نگر اور ہنزہ کے باسی اسے عقیدت اور خوف کے امتزاج سے “دومانی” یعنی “قہر کی ماں” بھی پکارتے ہیں، کیونکہ یہ پہاڑ جتنا حسین ہے، اتنا ہی بے رحم بھی ہے۔
سطحِ سمندر سے 7,788 میٹر بلند راکاپوشی دنیا کی 27 ویں بلند ترین چوٹی ضرور ہے، مگر اس کی اصل عظمت صرف بلندی کے ہندسے میں نہیں۔
اس کا اصل جلال اس کی عمودی قامت میں پوشیدہ ہے۔ وادیٔ نگر کی سطح سے اس کی چوٹی تک تقریباً 6,000 میٹر کا سیدھا اور بے خوف ابھار اسے ایک ایسی دیوار بنا دیتا ہے جس کے سامنے انسان خود کو بے وزن محسوس کرتا ہے۔ سکندر آباد سے پہلی نظر جب راکاپوشی پر پڑتی ہے تو انسان حیرت کی انتہاء پر پہنچ جاتا ہے حسن اور بلندی کے امتزاج کو دیکھ کر قدرت کی گاریگری پر عش کر اٹھتا ہے۔ (فتبارک اللہ احسن الخالقین)
شاہراہِ قراقرم پر سفر کرتے ہوئے یہ میلوں تک مسافر کے ساتھ ساتھ چلتی محسوس ہوتی ہے۔ کبھی سامنے، کبھی بائیں شانے پر، اور کبھی آئینے میں۔ جیسے خاموشی سے قدم قدم پر طنظر رکھے ہوئے ہو۔
راکاپوشی کی ڈھلوانیں جتنی دلکش ہیں، اتنی ہی سفاک بھی۔ 1958 میں برطانوی کوہ پیما مائیک بینکس اور ٹام پیٹی نے پہلی بار اس سرکش چوٹی کو سر کیا۔ یہ مہم بغیر آکسیجن کے مکمل کی گئی، مگر اس فتح کی قیمت ایک ساتھی کی جان اور شدید مشکلات کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔ یہ پہاڑ اپنی پہلی فتح کے بعد بھی خاموش نہ ہوا۔
اگلے بیس برس تک کوئی دوسرا انسان اس کی چوٹی تک نہ پہنچ سکا، یہاں تک کہ 1979 میں ایک پاک پولش مہم نے اس جمود کو توڑا۔ راکاپوشی نے ہر آنے والے کو یہی پیغام دیا کہ یہاں حسن آسانی سے نہیں ملتا۔
راکاپوشی صرف کوہ پیماؤں کیلئے نہیں، بلکہ ہر اس آنکھ کے لیے ہے جو خوبصورتی کی طلب رکھتی ہے۔ ہنزہ کے قریب راکاپوشی ویو پوائنٹ وہ مقام ہے جہاں انسان پہلی بار محسوس کرتا ہے کہ پہاڑ دیکھنا اور پہاڑ کے سامنے ہونا دو الگ تجربات ہیں۔ یہاں کھڑے ہو کر آواز خود بخود دھیمی ہو جاتی ہے۔
اس کے دامن میں واقع راکاپوشی ہراموش محفوظ علاقہ برفانی چیتوں اور نایاب جنگلی حیات کا مسکن ہے۔ یہاں کی خاموشی میں زندگی کی دھڑکن سنائی دیتی ہے، مگر ایسی جو دکھائی نہیں دیتی، صرف محسوس ہوتی ہے۔
اپنی تمام تر دلکشی کے باوجود، راکاپوشی کوہ پیمائی کی دنیا میں ایک کٹھن امتحان سمجھی جاتی ہے۔ اس کی شمالی دیوار، بلند گلیشیئرز اور برفانی تودے ہر وقت خطرے میں رکھتے ہیں۔ یہاں موسم پل بھر میں بدل جاتا ہے۔
نیلا آسمان دیکھتے ہی دیکھتے ایسی دھند میں لپٹ جاتا ہے جیسے کسی نے سفید کفن تان دیا ہو۔ یہی تضاد اسے خوبصورت مگر بے رحم بناتا ہے۔
راکاپوشی شمالی پاکستان کی روح اور گلگت بلتستان کے تاج کا وہ نگینہ ہے جو وقت کے ساتھ ماند نہیں پڑتا۔
۔یہ انسان کو اس کی کم مائیگی یاد دلاتی ہے، مگر ساتھ ہی بلندی کا خواب بھی عطا کرتی ہے۔ جب آپ علی آباد کے قریب شاہراہِ قراقرم پر اس کے سامنے خاموش کھڑے ہوتے ہیں تو الفاظ خود پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ وہاں زبان نہیں، صرف احساس بولتا ہے۔
یہ کوہساروں کا وہ شہزادہ ہے جس کی سلطنت برف، خاموشی اور وقت پر محیط ہے، اور شاید کبھی ختم نہیں ہوگی۔
شمالی پاکستان سیریز قسط نمبر 4
