ترچ میر کے سائے میں: چترال کی جنت نظیر وادیاں
ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلے میں واقع ترچ میر (7726 میٹر) صوبہ خیبر پختونخوا کی سب سے بلند چوٹی ہے۔
اس کی برف پوش چوٹیاں نیلے آسمان سے ہمکلام ہوتی ہیں، اور اس کے دامن میں پھیلا ہوا چترال قدرتی حسن، ثقافتی تنوع اور تاریخی ورثے کا خزانہ ہے۔ یہ خطہ شمالی پاکستان کا ایک ایسا گوشہ ہے جو اپنی وادیوں، تہواروں، جانوروں، جھیلوں اور انسانوں کے خالص پن سے ہر سیاح کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔
چترال کی سب سے رنگین پہچان کالاش قوم ہے، جن کی تین وادیاں یعنی بمبوریت، رمبور اور بریر ثقافتی لحاظ سے بے مثال ہیں۔ ہر سال مئی کے وسط میں یہاں "چلم جوش” کا تہوار منایا جاتا ہے، جو بہار کی آمد اور زندگی کی خوشیوں کا جشن ہوتا ہے۔
اس موقع پر کالاش مرد و خواتین روایتی رقص کرتے ہیں، سر پر چمکتے تاج پہنتے ہیں، اور مقامی موسیقی پر خوشی سے جھومتے ہیں۔ ان مناظر کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ فطرت، تہذیب اور انسان ایک ہو چکے ہوں۔
شمالی پاکستان کی اس سیریز میں ہم نے کیلاش مذھب اور کالاشہ زبان پر تحقیقی کام کیا ہے جو ان شاءاللہ تعالیٰ جلد ہی ویب سائٹ پر دستیاب ہوگا
چترال صرف تہواروں یا ثقافت تک محدود نہیں۔ یہاں کی پہاڑیاں انمول جنگلی حیات کا مسکن بھی ہیں۔ مارخور، جو پاکستان کا قومی جانور ہے، انہی بلندیوں پر چست چالاکی سے دوڑتا ہے۔ چترال گول نیشنل پارک میں اس کے تحفظ کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
اگر قسمت یا ماہر گائیڈ ساتھ ہو تو برفانی چیتا بھی نظر آ سکتا ہے، جو دنیا کے نایاب ترین جانوروں میں شمار ہوتا ہے۔
چترال کی عظمت کا ایک اور مظہر شندور ٹاپ ہے، جو تقریباً 12 ہزار فٹ کی بلندی پر دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ ہے۔
ہر سال جولائی میں یہاں چترال اور گلگت کی مختلف ٹیمیں مدمقابل آتی ہیں اور ہزاروں تماشائی اس ایونٹ میں شرکت کرتے ہیں۔ صرف کھیل ہی نہیں، اس موقع پر ثقافتی تقریبات، رقص، ساز و سرود اور مقامی کھانوں کا اہتمام بھی ہوتا ہے، جو پورے شمال کی نمائندگی کرتا ہے۔
چترال کو وادی کمراٹ سے جوڑنے والا تھالو پاس ایک بلند پہاڑی درہ ہے جو ٹریکنگ کے شوقین افراد کے لیے کسی خواب سے کم نہیں۔ یہ راستہ سرسبز چراگاہوں، نیلے آسمان، جھاگ اڑاتے آبشاروں اور برفانی گلیشیئرز سے ہوتا ہوا دونوں خطوں کو جوڑتا ہے۔ اگرچہ اس کا راستہ کافی دشوار گزار ہے، لیکن وہاں پہنچنے کے بعد جو سکون اور عظمت محسوس ہوتی ہے، وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔
اگر شمال کی خاموشی اور فطری سادگی دیکھنی ہو تو بروغل ویلی کا رخ کریں، جہاں یاک پالنے والے لوگ، بلند و بالا پہاڑ، سادہ زندگی، لکڑی کے مکانات اور یخ بستہ فضائیں ایک اور دنیا کا پتہ دیتی ہیں۔ ققشلت میڈو بھی اسی خطے میں ایک دلکش مقام ہے، جو ہر سال گرمیوں میں سبز چادر اوڑھ کر مہکنے لگتا ہے۔ یہاں کی فضا میں پرندوں کی آوازیں، ہلکی سی ٹھنڈک اور زمین پر بکھرے پھول ایک ناقابلِ فراموش منظر بناتے ہیں۔
چترال میں کئی خوبصورت جھیلیں بھی واقع ہیں، جن میں کرمبر جھیل اپنی شفافیت، وسعت اور بلندی کی وجہ سے نمایاں ہے۔ یہ جھیل 14 ہزار فٹ سے بھی بلند سطح پر واقع ہے اور دنیا کی بلند ترین جھیلوں میں شمار ہوتی ہے۔ نیلگوں پانی، چاروں طرف برف پوش سفید چوٹیاں اور آس پاس چرنے والے یاک اور دیگر جانور، اسے کسی جادوئی منظر یا اے آئی سے بنائے گئے تخیلاتی منظر میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
چترال کی چند منفرد خصوصیات اسے باقی تمام سیاحتی مقامات سے ممتاز بناتی ہیں۔ یہاں کے لوگ بے حد مہمان نواز، ۔ زبانیں مختلف، تہذیب الگ، لیکن رویے ایک جیسے خوشگوار۔ چترال میں وقت جیسے تھم جاتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں انسان خود سے ملتا ہے، فطرت سے رشتہ جوڑتا ہے اور تہذیب کے اصل چہرے کو پہچانتا ہے۔
چترال کے سیاحت کیلئے مشہور علاقوں میں کیلاش ویلی (بمبوریت، رمبور، بریر)،گرم چشمہ، گولین ویلی،بونی، مستوج،شندور پاس، چترال گول نیشنل پارک، بروز ویلی، بونی لاسپور،آرندو اور دروش شامل ہیں
اگر آپ شمالی پاکستان کی سیر کا ارادہ رکھتے ہیں تو چترال کو نظر انداز نہ کریں۔ یہ وہ سرزمین ہے جو نہ صرف دل کو خوش کرتی ہے بلکہ روح کو بھی سکون عطا کرتی ہے۔ یہاں کی ہوا، پانی، انسان، پہاڑ، دریا، ہر چیز میں ایک مٹھاس ہے قدرت کی ایک نرم تھپکی جیسی۔
(رضوان احمد حقانی)
شمالی پاکستان سیریز پارٹ 2
